خیبرپختونخوا میں گورنر اور حکومت آمنے سامنے

0
6

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر کی جانب سے گزشتہ روز منعقد کیے گئے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت، صوبائی اسمبلی اور کابینہ مکمل طور پر فعال ہیں، ایسے میں گورنر کا چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ عدم اعتماد ہے، کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر بھی ماضی کی سیاست دہراتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے وفاق پر خیبرپختونخوا سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع کے مالی حقوق اور متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے۔

Leave a reply