سی سی ڈی پنجاب نے900افرادکوماورائےعدالت قتل کیا،رپورٹ میں انکشاف

0
5

انسانی حقوق کےادارےکی رپور ٹ میں انکشاف کیاگیاہےکہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے گزشتہ آٹھ ماہ میں 900سے زائد افراد کو ماورائے عدالت قتل کیاہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیاگیاکہ پنجاب میں بڑھتےہوئےجرائم کی روک تھام کے لئےکرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نےمنظم پالیسی کےتحت ان افراد کی زندگیوں کاخاتمہ جس میں شہریوں کی زندگیوں کی غیر قانونی طور پر چھیننے کا ایک منظم سلسلہ شامل ہے۔
انسانی حقوق کےادارےکی رپور ٹ میں پنجاب کےشہربہاولپورکےایک خاندان سےمتعلق بھی تفصیل بتائی گئی،حال ہی میں پولیس نے زبیدہ بی بی کے گھرچھاپہ مار کر موبائل فون، نقدی، زیورات اور شادی کے سامان کو قبضے میں لے لیا۔ پولیس نے اس کے بیٹوں کو بھی حراست میں لیا۔ اگلے دن پانچ افراد جن میں زبیدہ کے بیٹے عمران،عرفان،عدنان اور دو داماد شامل تھے،جن کو مختلف’’ پولیس مقابلوں‘‘ میں جاں بحق کردیاگیا۔
زبیدہ بی بی نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹوں کی رہائی کی درخواست لے کرلاہور گئی، مگر اگلی صبح پانچ افراد کوقتل کردیاگیا۔
ان کے شوہر عبدالجبار کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجودنہیں تھا اور وہ محنتی شہری اور بچوں کے ساتھ ذمہ دار والدین تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاکہ پولیس نےاس مظلوم خاندان کودھمکی دی کہ اگرکسی قسم کی قانونی کارروائی کی گئی یاں کیس واپس نہ لیاگیاتوخاندان کےباقی افرادکوبھی ماردیاجائےگا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں اپریل 2025 سے دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 “انکاؤنٹرز” کی دستاویز کی گئی، جن کے نتیجے میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب کا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ قانون اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ماورائے عدالت قتل کی ایک منظم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کے ان غیر قانونی اقدامات کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہےکہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کا قیام گزشتہ سال وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے محفوظ پنجاب ویژن کے تحت عمل میں لایاگیاتھا۔

Leave a reply