چین میں شرح پیدائش میں کمی، بزرگ شہریوںکی تعداد 22 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی

چین میں پہلی بار بزرگ افراد کی تعداد بچوں سے بڑھ گئی ہے، جس کے باعث ملک کو معیشت، پنشن اور صحت کی سہولتوں کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چین کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق، گزشتہ سال کام کرنے کی عمر کے افراد کے مقابلے میں زیرِ کفالت بزرگوں کا تناسب 23 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ بچوں کا تناسب 22 فیصد رہا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چین میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 22 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 16 فیصد ہے۔ دوسری جانب 14 سال یا اس سے کم عمر بچوں کی تعداد تقریباً 21 کروڑ 30 لاکھ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگ افراد کی تعداد میں اضافے سے پنشن، علاج معالجے اور طویل مدتی نگہداشت پر سرکاری اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔















