آئی ایم ایف کا پیٹرولیم لیوی میں نرمی سے انکار، حکومت کی دوبارہ کوشش

0
5

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں نرمی کی درخواست پر فوری رضامندی ظاہر نہیں کی۔ حکومت عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو جمعرات کے روز آئی ایم ایف کے ابتدائی ردعمل سے آگاہ کیا گیا، جس میں لیوی کے موجودہ ڈھانچے میں کسی قسم کی رعایت کی حمایت نہیں کی گئی۔تاہم وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے دوبارہ رابطہ کرے اور عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے نرمی کی تجویز ایک بار پھر پیش کرے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ صارفین پر ڈالنا مناسب نہیں ہوگا اور اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اقتصادی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ تمام ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے تاکہ اس صورتحال کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف سے پیٹرولیم لیوی میں رد و بدل کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ عالمی قیمتوں کے اثرات کا کچھ حصہ عوام پر منتقل نہ ہو۔تاہم آئی ایم ایف پیٹرولیم لیوی کو ایک اہم ریونیو ذریعہ اور جاری پروگرام کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے اس میں نرمی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ اس معاملے پر رواں ہفتے کے آغاز میں بھی مشاورت ہوئی تھی، جس میں وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کے ڈھانچے پر آئی ایم ایف سے بات کی جائے۔اس وقت حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے اور ڈیزل پر 55 روپے لیوی وصول کر رہی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اب تک تقریباً 129 ارب روپے کی سبسڈی دے کر ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر چکی ہے، جو ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دیگر بچتوں کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔

Leave a reply