پاکستان کا آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، نیا نظام متعارف

0
15

حکومت ِ پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈسے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا نظام متعارف کرادیا ۔
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اب وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر 6 ماہ بعد رپورٹ دیں گی، تاکہ شفافیت آئے اور مالی جھٹکوں سے بچا جا سکے، یہ اقدام معاشی استحکام کے لیے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کے پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے 90.6 ارب روپے کا مالی دباؤ ہے اور پی پی پارٹنرشپ منصوبوں سے حکومت پر مالی دباوؤ 472 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ،وزارت خزانہ کے مطابق یہ اعداد و شمار دسمبر 2025 تک کے عارضی تخمینوں پر مبنی ہیں۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پی پی پارٹنرشپ معاہدوں کے مالی خطرات بجٹ میں فوراً ظاہر نہیں ہوتے ، اب پی پی پارٹنرشپ منصوبوں کے مالی خطرات اور قرضہ جات رپورٹس میں شامل ہوں گے۔

Leave a reply