ایران میں احتجاج 78 شہروں تک پھیل گیا،سپریم کورٹ کا فسادیوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

ایرانی حکومت کے ریلیف پیکج کے باوجود ملک میں احتجاج کا دائرہ کار بڑھ گیا جس پر ایران کی عدالت عظمیٰ نے فسادیوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ۔
ایران میں معاشی بحران کے باعث پھیلنے والے پرتشدد مظاہروں کے درمیان چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے فسادیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیتے ہوئے۔
واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات سنے جائیں گے، مگر تخریب کار عناصر اور ان کے حامیوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے گی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور صوبائی پراسیکیوٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ قانون کی سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب مہنگائی اور ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف مظاہرے نویں روز بھی جاری ہیں اور پرتشدد احتجاج 78 شہروں تک پھیل چکا ہے ۔انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق جھڑپوں میں 20 سے زائد مظاہرین ہلاک، 50 سے زیادہ زخمی اور ایک ہزار کے قریب مظاہرین گرفتار ہو چکے ہیں۔
حکومت نے احتجاج پر قابو پانے کیلئے ہر شہری کو اگلے چار ماہ تک ماہانہ تقریباً 7 ڈالر کا الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے، جو ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے کریڈٹ کی شکل میں ملے گا۔















