سپریم کورٹ کا اصلاحاتی پیکج منظور، خواتین سہولت مراکزکوعدالتی نظام کالازمی جزو بنانےکافیصلہ

سپریم کورٹ کا اصلاحاتی پیکج منظور، خواتین سہولت مراکزکوعدالتی نظام کالازمی جزو بنانےکافیصلہ کرلیاگیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ میں اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ بار کونسلز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ لیگل امپاورمنٹ کمیٹیز کو مضبوط بنانے اور مفت قانونی امداد کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ خواتین سہولت مراکز کو عدالتی نظام کا لازمی جزو بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق خواتین اور کمزور طبقات کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ مالی سال 2025-26 کے اصلاحاتی پیکج میں چار ترجیحی شعبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
ملک بھر کی عدالتوں میں سولرائزیشن اور ای لائبریریوں کے قیام کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ خواتین کے لیے خصوصی مقامات اور صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام منصوبوں کی تکمیل اگست 2026 تک یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عدالتی کمپلیکسز میں خواتین سہولت مراکز کی اپ گریڈیشن کو ترجیح دی جائے گی۔
مزید برآں، بار کونسلز کی مفت قانونی امداد کو ڈسٹرکٹ لیگل امپاورمنٹ کمیٹیز سے منسلک کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ قوانین کے جائزے کے لیے بار کی نمائندگی پر مشتمل مشاورتی کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔















