سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کر دیا

مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث ازخود مالک بن جاتے ہیں، نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں،سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کر دیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نےکرایہ داری کا کیس سنا ،جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔سندھ ہائی کورٹ نے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کر کے ساٹھ دن میں مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نےفیصلےمیں لکھاکہ مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث ازخود مالک بن جاتے ہیں، نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں،متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی نہیں، اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس دے کر کرایہ اور بقایاجات ادا کرنے کا مطالبہ کیا، کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا، مگر قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا، نوٹس کے باوجود کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا ۔
سپریم کورٹ کےفیصلےمیں کہاگیاکہ قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بے دخلی کی درخواست دائر کی، کرایہ داروں کا مؤقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں، نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانوناً ادائیگی تصور نہیں ہوتا،قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے، جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔















