
سپریم کورٹ نے 25 سالہ لڑکی صائمہ بی بی کے قتل کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم منور حسین کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔یہ واقعہ 2016 میں فیصل آباد کے ایک گاؤں میں پیش آیا تھا جہاں صائمہ بی بی کو چھری کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد میں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا، تاہم اب سپریم کورٹ نے دونوں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے ہیں۔
سماعت کے دوران وکیلِ مدعی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم مقتولہ کا ہمسایہ تھا اور اس پر بری نظر رکھتا تھا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے چھری سے ذبح کر کے قتل کیا، اور مقتولہ کا شوہر، دیور اور ایک تیسرا شخص اس وقوعے کے گواہ ہیں جبکہ قتل سے قبل مقتولہ کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر اسے چارپائی سے باندھا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس ملک شہزاد نے وکیلِ مدعی سے استفسار کیا کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اکیلا تھا جبکہ وقوعے کے تین گواہ موجود تھے، تو شوہر، دیور اور تیسرے شخص نے ملزم کو وقوعے کے وقت روکا کیوں نہیں؟
انہوں نے ریمارکس دیے کہ کیا مقتولہ کو ذبح کیا جا رہا تھا اور عینی شاہدین خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے؟جسٹس شکیل احمد نے اس موقع پر نشاندہی کی کہ میڈیکل رپورٹ میں دوپٹے کے نشانات کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دوپٹے کو فرانزک کے لیے بھجوایا گیا تھا۔
جسٹس ملک شہزاد نے مزید ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ نے ملزم کی جانب سے بری نظر رکھنے اور چھری کی برآمدگی کو فیصلے میں قابلِ بھروسہ نہیں لکھا۔مدعی اور گواہوں کے مطابق واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے کا تھا، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کا وقت اس سے پہلے کا تھا اور مدعی کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا تھا۔
ان تمام قانونی نقائص اور شواہد میں تضاد کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔















