ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب سارہ احمد کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

0
14

پاکستان ٹوڈے کی تفصیلات کے مطابق قرارداد میں کم عمری کی شادیوں کے سنگین نتائج اور 18سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔

کم عمری کی شادی کا مسئلہ نوجوان لڑکیوں اور عام لوگوں کیلئے بہت سنگین معاملہ ہے۔ کم عمری کی شادی اکثر لڑکیوں کی بچوں کے ساتھ بدسلوکی، استحصال اور بنیاد پر تشدد کی کمزوریوں میں اضافی کرتی ہے۔

کم عمری کی شادی لڑکیوں کی زندگی اور صحت کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ ایوان اعلان کرتا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور متوازن معاشرے کی تشکیل کیلئے صحتمند ماؤں کا کردار بہت اہم ہے۔

ایوان کی سفارش ہے کہ عوام کو کم عمری کی شادیوں کے سنگین خطرات اور نتائج سے آگاہ کیا جائے۔ جب تک کوئی شخص 18سال کی عمر تک نہ پہنچ جائے اور نکاح خواں کو شناختی کارڈ نہ پیش کرے، تب تک شادی نہ کی جائے۔

Leave a reply