زندہ انسانی دماغ سے چلنے والا دنیا کا سپر کمپیوٹر تیار کرلیا گیا

زندہ انسانی دماغ سے چلنے والا دنیا کا سپر کمپیوٹر تیار کرلیا گیا۔آسٹریلیا کی ایک نئی سٹارٹ اپ کمپنی کورٹیکل لیبز نے دنیا کا پہلا زندہ دماغی خلیوں پر مبنی کمپیوٹر بنالیا۔
اس سسٹم کا نام سی ایل1 ہے، یہ کمپیوٹر عام کمپیوٹرز کی طرح نہیں، بلکہ یہ انسانی دماغی خلیوں یعنی نیورونز سے کام لیتا ہے، جو سائنسدانوں نے انسان کی جلد یا خون سے تیار کیے ہیں۔ یہ جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر نیوروسائنس اور بایو ٹیکنالوجی کے محققین کیلئے ایک انقلابی پلیٹ فارم ثابت ہو رہی ہے۔
سی ایل ون میں تقریباً 8 لاکھ انسانی نیورونز شامل کیے گئے ہیں، یہ نیورونز ایک چِپ پر رکھے جاتے ہیں اور ایک مخصوص نظام کے ذریعے انہیں ضروری غذائی اجزا، درجہ حرارت کا توازن، فضلہ کی صفائی اور مائع کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہوئے محفوظ رکھا جاتا ہے۔
یہ خلیے بجلی کے چھوٹے سگنلز کے ذریعے آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور اردگرد کے ماحول کے مطابق خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔روایتی کمپیوٹرز کے برعکس سی ایل 1 معلومات کو بجلی کے نہایت تیز رفتار ردعمل سے پروسیس کرتا ہے۔ جب کوئی سگنل یا ڈیٹا نیورونز کو دیا جاتا ہے، تو وہ فوری ردعمل دیتے ہیں۔ یہ ردعمل ایک خاص ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے ذریعے سمجھا جاتا ہے اور یوں یہ سسٹم ریئل ٹائم میں کام کرتا ہے اور سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
سی ایل ون یونٹ کی قیمت 35 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ بڑی مقدار میں خریدنے پر یہ 20 ہزار ڈالر فی یونٹ ہو جاتی ہے۔ کمپنی ایک آن لائن کلاؤڈ سروس بھی فراہم کر رہی ہے، جس کے ذریعے سائنسدان گھر بیٹھے تجربات کر سکتے ہیں۔ اس کلاؤڈ سروس کی قیمت 300 ڈالر فی ہفتہ ہے، جبکہ ایک یونٹ چھ مہینے تک فعال رہ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہناہے کہ اس کی اصل اہمیت کمپیوٹر سائنس سے زیادہ بایولوجیکل سائنس میں سامنے آئے گی۔
آئی فون 18 سیریز کا ڈیزائن کیسا ہوگا؟اور کب لانچ ہوگا؟
فروری 14, 2026صارفین کی مشکل آسان:واٹس ایپ ویب پر نئے فیچر متعارف
فروری 13, 2026
Leave a reply جواب منسوخ کریں
مزید دیکھیں
-
میٹا کے سوشل میڈیا نیٹ ورک تھریڈز میں نیا سرچ ٹول متعارف
دسمبر 5, 2024 -
گوگل میپس کا ایسا نیا فیچر جو صارفین کو ضرور پسند آئے گا
نومبر 11, 2024
اہم خبریں

پاکستان ٹوڈے ڈیجیٹل نیوز پر شائع ہونے والی تمام خبریں، رپورٹس، تصاویر اور وڈیوز ہماری رپورٹنگ ٹیم اور مانیٹرنگ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان کو پبلش کرنے سے پہلے اسکے مصدقہ ذرائع کا ہرممکن خیال رکھا گیا ہے، تاہم کسی بھی خبر یا رپورٹ میں ٹائپنگ کی غلطی یا غیرارادی طور پر شائع ہونے والی غلطی کی فوری اصلاح کرکے اسکی تردید یا درستگی فوری طور پر ویب سائٹ پر شائع کردی جاتی ہے۔














