رمضان المبارک:سحری میں کن چیزوں کااستعمال نہ کرناصحت کیلئے مفید

0
7

رمضان المبارک میں سحری کےوقت کن چیزوں سےپرہیزکرناصحت کےلئے مفیدثابت ہوتاہے۔
رمضان شریف کے روزے ہر عاقل، بالغ مسلمان پر فرض ہیں، اسلامی (قمری) سال کے حساب سے 15 سال کی عمر مکمل ہوتے ہی لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ قرار پاتے ہیں اور ان پر روزے فرض ہو جاتے ہیں۔
رمضان المبارک میں سحری کےوقت مناسب غذاکاانتخاب کرنالازم ہے،کیونکہ پورےدن کی توانائی اور برداشت سحری کی غذاپرمنحصرہوتی ہے۔ اگر اس وقت مناسب غذا کا انتخاب نہ کیا جائے تو دن بھر پیاس، کمزوری اور سستی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین غذائیت کےمطابق سحری کےوقت کچھ مخصوص چیزوں کے کھانے سے پرہیزکرنے سے روزے دارکودن بھرجسم متوازن رکھنےاورپیاس سےمحفوظ رکھتی ہے۔
تلی ہوئی اور چکنائی سے بھرپور اشیاء:
سحری کےوقت زیادہ چکنائی والی چیزوں کےاستعمال سے نہ صرف معدے پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ ہاضمہ بھی سست ہو جاتا ہے۔ چکنائی والی غذائیں بدہضمی، تیزابیت اور پیاس میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے روزہ مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
میٹھی اور شوگر سے بھرپور غذائیں:
سحری کےوقت میٹھی اشیا یاں میٹھےمشروبات کےاستعمال سےوقتی طورپرتوانائی ملتی ہےمگرکچھ ہی دیر بعد بلڈ شوگر کی سطح تیزی سے گر جاتی ہے۔ جس کےنتیجےمیں اچانک کمی کے باعث کمزوری اور بھوک کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ سحری میں زیادہ میٹھا کھانے سے دن کے دوران سستی اور تھکن بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
زیادہ نمک والی غذائیں:
سحری میں اچار، نمکین اسنیکس، چپس اور زیادہ مصالحے دار سالن کھانے سے جسم میں سوڈیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دن کے اوقات میں شدید پیاس لگ سکتی ہے۔ نمک جسم میں پانی کو روکنے کے بجائے پیاس کا احساس بڑھاتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ سحری میں ہلکی اور کم نمک والی غذا کا انتخاب کیا جائے۔
کیفین والے مشروبات:
سحری میں چائے،کافی اوربوتل کااستعمال جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ کیونکہ ان میں کیفین موجودہوتی جوکہ پیشاب کی مقدار بڑھاتی ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر سحری میں زیادہ مقدار میں چائے یا کافی پی جائے تو دن بھر پیاس زیادہ لگ سکتی ہے۔
سفید آٹے سے بنی اشیاء:
سفید بریڈ، میدے کے پراٹھے یا بیکری آئٹمز جلد ہضم ہو جاتے ہیں اور زیادہ دیر تک توانائی فراہم نہیں کرتے۔ اس کے مقابلے میں سالم اناج یا براؤن بریڈ زیادہ مفید رہتی ہے کیونکہ یہ آہستہ آہستہ توانائی فراہم کرتی ہے اور بھوک کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔
مصالحے دار اور تیز مرچ والی غذائیں:
سحری میں زیادہ مصالحےدارچیزوں کےاستعمال سےمعدے میں جلن اور تیزابیت پیدا کر تاہے،جس کےنتیجےمیں دن بھربےچینی اورپیاس کااحساس بڑھ سکتاہے، سحری میں سادہ اور ہلکی غذا معدے کے لیے بہتر رہتی ہے۔
سحری کےلئےبہترغذاکونسی:
سحری میں فائبر، پروٹین اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا انتخاب کریں، جیسے دلیہ، انڈا، دہی، پھل اور سالم اناج۔ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے۔

Leave a reply