بدل دو: فطرت کا تقاضا

0
45

بلاگ: ماریہ شبیر
بدل دینا کوئی برائی یا کمزوری نہیں، بلکہ ایک Natural Process اور قدرت کا سب سے بڑا قانون ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے،
’اللہ رات اور دن کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے، بدلتا رہتا ہے‘۔ بچپن جوانی میں بدلتا ہے اور حتیٰ کہ آپ کی ہر سانس ایک بدلاوا ہے۔ جو چیز وقت کے ساتھ بدلتی نہیں، وہ اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ مذہب اور سائنس دونوں اس عمل کے حامی ہیں۔ تو پھر ہم اپنے ملک کے فرسودہ انتظامی ڈھانچے اور چار صوبوں کے پرانے سانچے میں قید رہنے پر کیوں بضد ہیں؟
آپ اپنی روزمرہ زندگی میں پرانا موبائل، موٹر سائیکل کا دھواں دیتا انجن، حتیٰ کہ واٹس ایپ کے غیر ضروری گروپس تک بدل دینے کے متحمل ہیں۔ بالکل اسی طرح آبادی کے بوجھ تلے دبے ہمارے چار بڑے صوبے بھی ایک دھواں دیتے انجن کی طرح ہو چکے ہیں۔ یاد رکھیں، ’بدل دو‘ کا مطلب تباہ کرنا نہیں، بلکہ بچا لینا ہے۔ چار صوبوں کو چھوٹے اور نئے صوبوں میں تبدیل کرنا ملک کو توڑنا نہیں بلکہ اسے انتظامی طور پر مضبوط کر کے بچا لینا ہے۔
یہ دراصل ایک Upgradation ہے جس کا پہلا مرحلہ Acceptance (ناکارہ نظام کی حالتِ زار کو قبول کرنا) اور پھر Adaptation (وقت کی ضرورت کے مطابق نئے صوبے بنا کر نظام کو ڈھال لینا) ہے۔ ارتقائی سائنس (Evolution) کا بھی اہم ترین اصول “Law of Adaptability” ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ بقا (Survival) برقرار رکھنے کے لیے محض مضبوط ہونا کافی نہیں، بلکہ اصل اہمیت بدلتے ماحول کے ساتھ خود کو ہم آہنگ (Adapt) کرنے کی ہے۔
باشعور قومیں Proactive Approach اپناتے ہوئے وقت سے پہلے خود کو بدلتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنے فرسودہ نظام کو بروقت نئے تقاضوں کے مطابق نہ ڈھالا، تو یہ اپنی incompatibility کی وجہ سے خود ہی collapse کر جائے گا۔ اور اگر ریاست کے اس فطری عمل کی نفی کی جائے تو پھر Replacement ایک یقینی عمل بن جاتا ہے، جیسا کہ خداوند تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے: ’کہ ہم ان سے بہتر لوگ ان کی جگہ بدل دیں، اور ہم عاجز نہیں ہیں۔‘ (سورۃ المعارج : 41)۔
دنیا کا واحد مستقل اصول تبدیلی ہے۔ Kodak اور Nokia دنیا کی سب سے بڑی Companies تھیں لیکن انہوں نے Touch system اور digital کو قبول نہیں کیا، تو مارکیٹ نے انہیں جدید Companies سے بدل دیا۔ اگر ہم نے بھی اپنے بوجھل صوبائی نظام کو فعال اور جدید صوبوں میں نہ بدلا، تو ہم بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔
ہاں یہ نکتہ واضح کرنا ضروری ہے کہ “بدل دو” کا مطلب اپنی قومی شناخت، اخلاقی اقدار اور ثقافت کو بدلنا ہرگز نہیں ہے۔ جیسے پہلے خط سے خیریت پوچھی جاتی تھی، آج واٹس ایپ کال سے پوچھی جاتی ہے؛ جذبہ وہی ہے، ذریعہ بدل گیا۔ پہلے دکان کا حساب کاپی پر ہوتا تھا، آج ایکسل پر؛ دیانت وہی ہے، طریقہ اپ گریڈ ہو گیا۔ بالکل اسی طرح صوبے چار ہوں یا چالیس، ہم سب پاکستانی ہیں، ہماری حب الوطنی وہی رہے گی، بس ملک چلانے کا طریقہ اپ گریڈ ہو جائے گا۔ سچائی، دیانتداری اور انصاف جیسے اصول کبھی outdated نہیں ہو سکتے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ بدلاؤ چاہتے تو ہیں لیکن Acceptance کے مرحلے پر آکر ’جیسے چل رہا ہے ویسا چلنے دو‘ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے مبرا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ Acceptance سے Adaptation کا مرحلہ اتنا ہی قریب ہے جتنا بولنے والے کے لئے زبان اور لکھنے والے کے لئے قلم۔ ہنر آپ کے ہاتھ میں ہے، خود کو اپنے ہی راستے کی رکاوٹ نہ بننے دیں۔
پہلے اپنی سوچ بدلیں، پھر اس فرسودہ نظام کے Challenges کو قبول کریں۔ جب پرانے کی جگہ نیا نظام آئے گا اور اختیارات نچلی سطح تک نئے صوبوں کی صورت میں منتقل ہوں گے، تو یہی بدلاؤ دائمی ترقی کا راستہ ہموار کرے گا۔ یہی وقت ہے کہ وقت کی ضرورت کو پہچانیں، کیونکہ خدا بھی خود کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک اسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ آئے۔

Leave a reply