آزادی یا من مانی۔ ایک المیہ

0
43

بلاگ: ماریہ شبیر

آزادی مبارک کہتے ہوئے زبان پر رقت سی طاری ہو گئی اور آزادی بطور یادگار شدت سے یاد آنے لگی۔

یونہی دل میں خیال آیا کہ ہم نے آزادی کا حصول کیوں چاہا؟

شاید غلط اور فرسودہ رسم و رواج سے آزادی۔ نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے آزادی۔ تعلیمی اداروں میں دوہری پالیسی اور متعصبانہ درجہ بندی سے آزادی۔ روزگار اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے آزادی۔ بنیادی انسانی حقوق، جان، مال اور عزت کی حق تلفی سے آزادی۔ خاندانی اجارہ داری اور جاگیردارانہ نظام کے زیرتسلظ نسل در نسل غلامی، بھوک اور غربت سے آزادی۔ جبر و تشدد او اقدار کی پامالی سے آزادی، جمہوریت کے نام پر آمرانہ نظام سے آزادی۔۔۔فرسودی روایات میں جکڑی ہوئی خواتین کی آزادی۔۔۔۔۔

ایک طویل فہرست ہے ایسے ہی بے شمار تحفظات کی، جنکی وجہ سے  اس آزادی کی جنگ اُن مظلوم اور محروم طبقات نے لڑی جنہوں نے غلامی کی صعبتوں کو جھیلا، آبا و اجداد کے صدیوں پرانے گھروں کو خیرباد کہا، خواتین کی عزتوں کی پامالی کو برداشت کیا، جانوں کا نذرانہ تک پیش کردیا، یوں ہمارے آباؤ اجداد کا   ‘ تمغہِ آزادی ‘ ہمیں تحفے کی صورت وراثت میں مل گیا۔

مگر یہ سوال نئی نسل کے سامنے شدت سے ابھر رہا ہے کہ جن غلامیوں سے نجات کا خواب ہمیں دکھایا گیا تھا، کیا واقعی ہم نے غلامی اور روایات کی ان بیڑیوں سے نجات پالی ہے؟؟

جواب بڑا تلخ ہے، ہم میں سے ہر کوئی جس درجہ رہائی پا چکا ہے اُسکو اُس قدر آزادی مبارک ۔ تشکیلِ پاکستان کے بعد تعمیرِ پاکستان میں اور تکمیلِ پاکستان میں جس قدر ہمارا حصہ ہے اسی قدر ہمیں آزادی مبارک ۔ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ ہم ضرورت سے زیادہ آزاد ہوگئے ہیں، اس لئے سب کو اپنی اپنی آزادی بلکہ من مانی مبارک ۔

ایک مشہور کہاوت ہے کہ بھینسوں کو کِلے سے آزاد کر دیا جائے توگلے کے طوق سے نجات پانے کے جوش میں بوکھلا کر راستہ ہی بھٹک بیٹھتی ہیں اور سرکش اور گمراہ ہو جاتی ہیں۔  ہمارا المیہ بھی یہی ہے کہ ہم نے  ‘آزادی’ کا مفہوم بدل کر من مانی سمجھ لیا ہے۔۔ اِسی من مانی کے زیرِ اثر ہم نے آزادی کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔۔۔

اس کی عکاسی ہمیں یوم آزادی نصف شب بارہ بجتے ہی  سڑکوں پر جشن آزادی کے نام پر بے ہنگم ٹریفک اور بے ہودہ حرکات سے نظرآتی ہے ، شور شرابہ ، نہ دن کی خبر نہ رات کا پتہ ، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ آزادی  کے جانثار نہیں  بلکہ بگڑی ہوئی تہذیب کا ٹولہ ہیں ۔۔۔

ہے کہ ایمان، اتحاد، تنظیم  کا نعرہ جو آزادی کی طاقت بنا آج آزادی کی پامالی کا ہتھیار بنا ہوا ہے۔

اُن قحط زدہ، لُٹے پُھٹے، خالی ہاتھ مجاہدوں کا حوصلہ جو آنیوالے کَل کیلئے مر مِٹے اور ہم وہ سپردگان جو آزاد زمیں پر کھڑے، آزاد راہوں پر من موجی بنے ، کِلے سے آزاد بھینسوں کی مانند بھٹکے پِھرتے ہیں، حال سے بے پرواہ مستقبل سے بے نیاز ۔ ۔ ۔

پاکستان کا قیام بلاشبہ ایک معجزے کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمارا حال یہود کے اُن لوگوں کے جیسا ہے جو معجزات پا کر کاہلی کا شکار ہوگئے خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھنے لگے اور خوش بختی کو بد بختی سے بدل بیٹھے۔

 ہم ہر قربانی کو چاہے وہ عید کی ہو یا آزادی کی، بس ایک رسم، دکھاوے اور رواج کی مانند گزارنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں تو چلو شغل ہی سہی،  معاملہ بالکل ایسا ہے جیسے ہر mothers/fathers day پر سننے کو ملتا ہے کہ ماں باپ سے محبت کا ایک دِن نہیں چنانچہ ہر روز اعمال و افعال سے اِسکی پاسداری کی جائے، بالکل اسی طرح ارضِ پاک سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر دِن اِس عظیم دھرتی کو سنوارنے کیلئے کوشاں رہیں، اپنا حصہ اسکی سرفروشی میں ضرور ڈالیں تاکہ ہر 14 اگست کو آزادی کی خوشی اسکے حقدار بن کر منائیں نہ کہ بے لگام اور بے قدروں کی طرح شرمسار بن کر ۔

ایک وہ خواب جو شرمندہ تعبیر ہوا

ایک یہ آنکھ جو شرمندہ ہے خوابوں سے

Leave a reply