اسلام آباد مذاکرات: کیا پاک،امریکہ،ایران سفارتکاری خطے کو تباہی سے بچا پائے گی؟

0
12

حافظ عاصم شیروانی

اپریل 2026 کے ان ایام میں اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک غیر معمولی ارتعاش محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس تپتے ہوئے مرکز میں کھڑا ہے جہاں سے پورے خطے کی تقدیر کا فیصلہ ہونا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں غیر معمولی سیکیورٹی اور بین الاقوامی وفود کی آمد و رفت اس حقیقت کی غماز ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے پاکستان نے ایک پل کا کردار سنبھال لیا ہے۔ فروری 2026 میں شروع ہونے والے اس بحران نے، جس کا آغاز آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور میزائل حملوں سے ہوا تھا، عالمی معیشت اور علاقائی امن کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی۔ ایسی نازک صورتحال میں پاکستان نے اپنی “جیو اکنامک” پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی جو ہمت دکھائی ہے، وہ اس کی سفارتی تاریخ کا ایک بڑا امتحان ثابت ہو رہی ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
مذاکرات کی میز پر موجود پیچیدگیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں کیونکہ ایک طرف امریکہ کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی افزودگی کو فی الفور مکمل طور پر معطل کرے، جبکہ دوسری جانب تہران اپنی معیشت پر لگی سخت ترین پابندیوں کے فوری خاتمے سے کم کسی بات پر راضی نظر نہیں آتا۔ ان متضاد موقفوں کے بیچ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح ایک ایسا درمیانی راستہ تلاش کرے جو دونوں ممالک کے قومی مفادات اور وقار کو ٹھیس پہنچائے بغیر امن کی راہ ہموار کر سکے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جہاں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے، وہیں پاکستان کے اندرونی معاشی استحکام کو بھی شدید متاثر کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی جیت نہیں بلکہ اپنی بقا اور معاشی بحالی کا بھی مسئلہ ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک پیج پر ہونا اور نیوٹرل تھرڈ پارٹی کے طور پر سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز کرنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔
اس سفارتی عمل کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس بار چین اور روس جیسے عالمی کھلاڑی بھی خاموشی سے اسلام آباد کے اس اقدام کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ بیجنگ کے لیے ایران ایک اہم توانائی پارٹنر ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات عالمی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں، لہذا چین چاہتا ہے کہ پاکستان کے ذریعے یہ تنازع حل ہو تاکہ سی پیک جیسے عظیم الشان منصوبوں پر جنگ کے سائے نہ پڑیں۔ دوسری طرف روس کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کو ایک توازن میں رکھا جائے، مگر کسی بڑے مسلح تصادم سے بچا جائے کیونکہ یوکرین کے بعد دنیا ایک اور بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ان عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز اس وقت اسلام آباد بنا ہوا ہے جہاں پاکستانی سفارت کار بڑی مہارت سے مختلف مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
پاکستانی عوام کے لیے ان مذاکرات کی کامیابی براہِ راست ان کے کچن اور جیب سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ اگر یہ سفارت کاری ناکام ہوتی ہے اور جنگ چھڑتی ہے، تو اس کا پہلا اثر توانائی کے شدید بحران اور مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی صورت میں نکلے گا۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر پورا کرتا ہے اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ، جو برسوں سے بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے کھٹائی میں پڑا ہوا ہے، اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف نہیں پگھلتی۔ اسلام آباد مذاکرات کی میز پر اس پائپ لائن کا تذکرہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہا ہے اور دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر پائیدار امن کا خواب ادھورا ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور ان مذاکرات کو ایک طویل سفر کا پہلا قدم قرار دے رہے ہیں کیونکہ دہائیوں پر محیط دشمنی اور بداعتمادی کو چند نشستوں میں ختم کرنا نامکن ہے، تاہم اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کا ایک ہی چھت تلے موجود ہونا اس بات کی نوید ہے کہ دونوں فریقین جنگ کی ہولناکیوں سے واقف ہیں اور اب سفارت کاری کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچتے ہیں تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور پاکستان کے لیے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا عالمی امیج بہتر بنانے کا سنہری موقع ہوگا۔ حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات اس وقت انسانیت کے لیے امید کی ایک ایسی کرن ہیں جس کی کامیابی کا دارومدار واشنگٹن اور تہران کی لچک پر ہے، جبکہ پاکستان نے اپنی بہترین سفارت کاری کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات میں ایک موثر ثالث بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

Leave a reply