آبنائے ہرمز: تیل، طاقت اور عالمی بے چینی

رپورٹ: ماریہ شبیر
دنیا کی تیل کی ایک تہائی سپلائی اچانک بند ہو جائے۔ اسٹاک مارکیٹس کریش، پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، اور عالمی معیشت کا پہیہ جام … اب یہ جان لیجیے کہ یہ محض ایک تصور نھیں، بلکہ ایک ایسا خطرہ ہے جو ہر روز ‘آبنائے ہرمز نامی’ ایک تنگ سمندری راستے سے جڑا ہے۔
آبنائے ہرمز Persian Gulfکو Gulf of Oman اور Arabian Sea سے ملانے والا واحد آبی راستہ ہے جو عالمی منڈیوں کو آپس میں جوڑتا ھے اس کے شمال میں ایران، بندر عباس کے زریعے، اور جنوب میں عمان و متحدہ عرب امارات بندرگاہ فجیرہ کے زریعے اس سے منسلک ہیں۔
33 کلومیٹر چوڑے اور محض3 کلو میٹر مسافت کی گزرگاہ کو بلاک کر دینا ایسا ہی ہے جیسے کہ بین الاقوامی معیشت کی شہ رگ پر تلوار رکھ دینا ۔ اس سمندری راستے کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف سمندری راستوں کو ملانے والا آخری راستہ ہے بلکہ دنیا بھر میں تیل و گیس کی 30فیصد منتقلی کا واحد سستا ترین ذریعہ ہے ۔
ذرا سوچیے دنیا کی معیشت ایک 3 کلو میٹر سمندری راستے کے رحم و کرم پر ہے ۔ اسی لیے اسے “چوک پوائنٹ”کہا جاتا ہے ۔ اس کو سمجھنے کے لیے Sand Clock کی مثال لے لیجیے ۔ شیشے کے دو جار جو درمیان سے ایک باریک راستے سے جڑے ہوتے ہیں ۔ ایک جار میں اہم برآمد کنندگان سعودی عرب ، عمان ، عراق ، کویت اور UAE جیسے ممالک اور دوسرے جار میں بھارت، جاپان اور جنوبی ممالک جیسے اہم درآمد کنندگان شامل ہیں، جب کہ ان کو ملانے والا تنگ راستہ Strait of Hormuz ہے ۔
قابل تشویش بات یہ کہ آبناے ہرمز کا کوئی بڑا متبادل موجود نہیں ۔ سعودی عرب اور UAE کی بنائی گئی پائپ لائنز روزانہ کا صرف 15٪تیل لے جا سکتی ہیں ۔ دوسری طرف بڑے آئل ٹینکرز کو گہرے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور وہ صرف اسی مخصوص راستوں سے گزر سکتے ہیں ۔ چونکہ راستہ تنگ ہے اور ٹریفک بہت زیادہ ہے۔ اس لیے چند باوردی سرنگیں یا ٹوٹے ہوے جہاز پورا راستہ بند کر سکتے ہیں۔
ملک اس راستے کو کنٹرول کرے وہ پوری دنیا کو کنٹرول کر سکتا ہے ۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بار پھر جنگ کا میدان بن چکا ہے ۔اقوام متحدہ کے سمندری قانون UNCLOS (United Nations Convention on the Law of the Sea) کے تحت اسے “بین الاقوامی آبنائے” (International Strait)مانا جاتا ہے جس کے مطابق دنیا کے تمام تجارتی اور فوجی جہاز بغیر اجازت کے گزر سکتے ہیں۔لیکن بین الاقوامی قانون کو پس پشت رکھتے ہوئے، امریکہ خود کوآبنائے ہرمز کا “گارڈین” قرار دینے پر بضد ہے۔ جبکہ تہران کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کی دو ساحلی ریاستیں ایران اور عمان ہیں۔ ان دونوں ملکوں کو اپنے علاقائی پانیوں پر خود مختاری کا حق حاصل ہے۔ اب غور کریں تو آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ تنازع محض تجارتی لین دین نہیں۔ اعداد و شمار ایک عجیب تضاد پیش کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہے — اس کی فیکٹریاں، اس کی معیشت، اس کے شہر اسی تیل سے روشن ہیں۔ منطق کہتی ہے کہ سب سے زیادہ بے چین بھی چین کو ہونا چاہیے۔
لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔
آبنائے ہرمز میں جنگی بیڑے چین کے نہیں، امریکہ کے تیر رہے ہیں۔ ناکہ بندی کی دھمکیاں چین کی طرف سے نہیں، ایران امریکہ کو دے رہا ہے اور جواب میں پابندیاں امریکہ لگا رہا ہے۔ فیس وصول کرنے کا دعویٰ چین نہیں، واشنگٹن اور تہران کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جس ملک کا تیل اس راستے سے نہیں گزرتا، وہ اس راستے کی حفاظت کے لیے اربوں ڈالر کیوں خرچ کر رہا ہے؟ اور جس ملک کی معیشت کا دارومدار اسی راستے پر ہے، وہ خاموشی سے تماشا کیوں دیکھ رہا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ روس جو خود تیل برآمد کر رہا ہے۔ اسے ہرمز سے تیل نہیں چاہیے، پھر بھی دلچسپی کیوں؟کیونکہ یہ 33 کلومیٹر کا آبنائے ہرمز دنیا ہلا سکتا ہے، سپرپاور کا کردار اور اہمیت یکسر بدل کر رکھ سکتا ہے ،مشہور مقولہ ہے کہ “جتنی ہرمز میں آگ، اتنی ماسکو میں روشنی”
اگر ہرمز میں کشیدگی ہو تو تیل کی عالمی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ روس زیادہ قیمت پر اپنا تیل بیچ کر اربوں ڈالر کماتا ہے۔دوسری جانب روس، چین، ایران مشترکہ بحری مشقیں “Maritime Security Belt” ہرمز کے پاس کرتے ہیں۔ مقصد دنیا کو دکھانا کہ اس علاقے کی ٹھیکیدار کوئی ایک طاقت نہیں۔
ایک عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا آبنائے ہرمز صرف تیل کی گزرگاہ ہے؟ یا یہ تیل کے بہانے طاقت ناپنے کا وہ ترازو ہے، جہاں تجارت نہیں، دنیا کی حکمرانی کا فیصلہ ہو رہا ہے؟
بہر حال ہرمز پر بڑھتے ہوئے ممکنہ خطرات اور عارضی یا طویل بندش کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک نے متبادل راستوں پر کام شروع کر دیا ہے، جیسے متبادل پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری، توانائی کے ذرائع میں رد و بدل، اور سمندری راستوں کو محفوظ بنانا، پاکستان نہ صرف توانائی کے ذخائر بڑھانے اور اس کے متبادل کی تلاش میں مصروف ہے بلکہ علاقے میں دو طرفہ امن و سلامتی کے فروغ کیلیئے بھی کوشاں ہے۔ دوسری طرف اس خطے کے کبھی نھ ختم ھونے والے تنازعہ کے پیش نظر آج دنیا کی بڑی طاقتیں بڑے فیصلے لینے پر مجبور نطر آتی ہیں، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال نے خلیجی ممالک کو اس نہج پہ لا کھڑا کیا ہے کہ وہ صدیوں پرانے سمندری راستے کا متبادل زمین پر تلاش کریں — اور UAE کا فجیرہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس سے پہلے چین کا “گوادر سے کاشغر” کوریڈور اور ایران میں سرمایہ کاری کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہرمز پر انحصار کم ہو۔سوال یہ پیدا ھوتا ہے کہ یہ متبادل منصوبے ایران پہ دبائو ڈال پائیں گے یا “ہرمز کو بائی پاس کرو” کا نعرہ خواب ہی بن کر رہ جائے گا؟
شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آبنائے ہرمز کو صرف نقشے پر ایک تنگ لکیر کی بجائے، 21ویں صدی کی عالمی طاقت کے مرکز کے طور پر دیکھنا پڑے گا۔















