کوئی مائی کا لعل ریاست پاکستان کو ڈرایا دھمکا نہیں سکتا، ڈی جی آئی ایس پی آر

0
7

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن ان دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہیں، متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان دہشتگرد کارروائیوں کو افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ منگی ڈیم، کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں بھی دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور پولیس اہلکاروں نے جرات و بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، زیارت میں کم از کم 15 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ دہشتگرد اپنی 15 نعشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں، حالانکہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی اور مسلمان تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے 18 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، گزشتہ تینوں واقعات میں وطن عزیز کے دفاع کے دوران مجموعی طور پر 42 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ آج کیے گئے دو آپریشنز میں مزید 14 دہشتگرد مارے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

Leave a reply