پاکستان میں سولر انقلاب : شمسی توانائی نےجوہری بجلی کو پیچھے چھوڑ دیا، عالمی رپورٹ جاری

0
10

پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور 2025 میں سولر انرجی ملک میں بجلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی۔
ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ 2026 کے مطابق 2025 میں پاکستان نے شمسی توانائی سے تقریباً 36.3 ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا کی، جو جوہری توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی سے تقریباً 61 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 6 جوہری ری ایکٹرز نے 2025 میں ریکارڈ 22.5 ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا کی، جو 2024 کے مقابلے میں 3.7 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سولر بجلی کی اصل پیداوار اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں نجی سولر سسٹمز بجلی کے سرکاری نظام میں شامل نہیں اور گھروں یا کاروباری اداروں میں براہِ راست استعمال ہوتے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت 6 جوہری ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 3.3 گیگاواٹ ہے۔ ان تمام ری ایکٹرز کی تعمیر چین کی کمپنی چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے کی ہے۔
پاکستان میں جوہری توانائی کا منصوبہ بھی جاری ہے اور چشمہ میں ایک ہزار میگاواٹ کے نئے ری ایکٹر چشمہ-5 کی تعمیر جاری ہے، جسے 2030 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2017 سے جون 2026 تک چین سے 58 گیگاواٹ سے زیادہ سولر پینلز درآمد کیے، جن میں تقریباً 40 گیگاواٹ پینلز صرف 2024 سے جون 2026 کے دوران درآمد کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کی شمسی بجلی کی پیداوار میں 85 فیصد اضافہ ہوا اور ملک کی مجموعی بجلی پیداوار میں سولر کا حصہ تقریباً 21.6 فیصد تک پہنچ گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں سولر توانائی کا بڑا حصہ گھروں، کاروباری اداروں اور دیگر نجی تنصیبات میں استعمال ہو رہا ہے، جس سے بجلی کے سرکاری نظام پر انحصار کم ہوا ہے۔

Leave a reply