آرٹیمس 2مشن میں سوارخلابازوں کی چاندکےمدارکاچکرلگانےکےبعدواپسی

0
6

امریکی خلائی ادارے ناسا کے تاریخی آرٹیمس 2 مشن میں سوار خلا باز چاند کے گرد چکر لگانے کے بعد اب زمین کی جانب واپسی کے سفر پر روانہ ہو گئے ہیں۔
اس مشن کے ذریعے ناسا نے کئی دہائیوں بعد پہلی بار انسانوں کو چاند کے مدار تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی، جبکہ خلا بازوں نے زمین سے خلا میں سب سے زیادہ فاصلے تک سفر کرنے کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
6 اپریل کو اورین اسپیس کرافٹ نے چاند کے مدار میں تقریباً 6 گھنٹے تک پرواز کی، جو 1970 کی دہائی کے اپولو مشنز کے بعد پہلی بار انسانوں کی اس سطح تک رسائی کا موقع تھا۔
آرٹیمس 2 میں شامل 4 خلا بازوں نے چاند کے اس حصے کا بھی مشاہدہ کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔مشن کے دوران خلا بازوں نے مجموعی طور پر 2 لاکھ 52 ہزار میل سے زائد کا فاصلہ طے کیا، جس کے ذریعے انہوں نے اپولو 13 کے پرانے فاصلے کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
کینیڈین خلا باز جرمی ہینسن نے چاند کے مدار سے گفتگو کرتے ہوئے اسے ایک ناقابل یقین تجربہ قرار دیا۔ مشن کے دوران چاند پر نظر آنے والے دو گڑھوں کے نام بھی رکھے گئے، جن میں ایک کا نام “Integrity” اور دوسرے کا نام “Carol” رکھا گیا۔یہ مشن لینڈنگ کے بجائے چاند کے مدار تک محدود تھا، جبکہ اب اورین اسپیس کرافٹ زمین کی جانب واپس آ رہا ہے۔ توقع ہے کہ خلا باز تقریباً 4 دن بعد زمین پر واپس پہنچیں گے اور 10 اپریل کو بحر الکاہل میں لینڈ کریں گے۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس 2 مشن اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی فرد کو چاند کے مدار تک بھیجا گیا۔ اس سے قبل 2022 میں آرٹیمس 1 مشن بغیر انسانوں کے مکمل کیا گیا تھا، جبکہ آرٹیمس 3 مشن میں خلا بازوں کے چاند کی سطح پر اترنے کا منصوبہ ہے۔

Leave a reply