
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر ڈی ایس پی پر برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے کیس کا ریکارڈ طلب کیا تو بتایا گیا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے۔ اس پر جج نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کیس کا ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو ڈی ایس پی اور ایس پی کو چھ ماہ کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
جج نے ریکارڈ پیش کرنے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار قابل قبول نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ڈی ایس پی کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کے لیے کچھ وقت دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔















