نامورسرائیکی گلوکار منصور ملنگی کو مداحوں سے بچھڑے11 برس بیت گئے

0
156

نامورسرائیکی گلوکار منصور علی ملنگی کو مداحوں سے بچھڑے11 برس بیت گئے۔
یکم جنوری1947 ء کو ضلع جھنگ کے علاقہ گڑھ مہاراجہ میں پیدا ہونےوالے منصور ملنگی کے والد پٹھان علی سارنگی نواز تھے،اس لیے گلوکاری کا شوق منصور ملنگی کو وراثت میں ہی ملا منصور ملنگی نے نو عمری سے ہی گلوکاری کا آغاز کر دیا تھا ۔
1965ء کو ریڈیو پاکستان پر منصور ملنگی کا پہلا گانا نشر ہوا س وقت ان کی عمر 18برس تھی لیکن منصور ملنگی کو پہلی مرتبہ شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب اس نے1974ء میں سرائیکی زبان کا مشہور گانا ’’ ایک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے ‘‘ گایا ۔
منصور ملنگی میں یہ خوبی تھی کہ وہ اپنے گانوں کی شاعری بھی خود کرتے تھے اور ان کی دھنیں بھی ترتیب دے لیا کرتے تھے۔منصور ملنگی نے دیگر صوفیاء کا کلام گا کر بھی بے پناہ شہرت حاصل کی ۔

ان کے گائے گیتوں میں کالا تِل ماہیے دا، بلوچا ظالما، کیہڑی غلطی ہوئیے ظالم آج بھی زبان ِ زدِ عام ہیں۔
11 دسمبر 2014 کوانتقال کر جانیوالے منصور ملنگی نے زندگی بھر اپنی زبان کی شناخت کیلئے گائیکی کی۔ انہیں ان کے آبائی علاقہ گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ میں سپردخاک کیا گیا تھا ۔

Leave a reply