یومِ پاکستان پرصدر اور وزیر اعظم کاپیغام:اتحاد، ترقی اور استحکام کے عزم کا اعادہ

0
7

ملک بھر میں آج یومِ پاکستان روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں وقار کے ساتھ پرچم کشائی کی سادہ تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
صدرمملکت آصف علی زرداری نے اس موقع پر قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ 1940 کو برصغیر کے مسلمانوں نے قراردادِ پاکستان منظور کی، جس میں ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا گیا جہاں وہ اسلامی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔
صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی مقاصد کے حصول کے لیے اتحاد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان کے وقت درپیش بے شمار چیلنجز کے باوجود قوم نے باہمی تعاون سے مشکلات پر قابو پایا اور مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا، جوہری طاقت حاصل کی اور دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کامیابیاں سمیٹیں، جبکہ دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے بھی یومِ پاکستان پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہائیوں قبل مسلم قیادت نے ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے متحد ہو کر ایسا تصور پیش کیا جہاں مسلمانوں کے سیاسی اور آئینی حقوق محفوظ ہوں۔
وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر متوازن اور فعال سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا چکا ہے اور مثبت اقتصادی اشاریے اس کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یومِ پاکستان کی 86ویں سالگرہ پر مسلح افواج نے بھی قوم کو مبارکباد دی۔
پاک فوج کےشعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 23 مارچ قومی عزم، ایمان اور استقامت کی علامت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان جمہوری استحکام کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ مسلح افواج، عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے متحد اور ہمہ وقت تیار ہیں۔

Leave a reply