بیرون ِملک تعلیم حاصل کرنیوالے پاکستانی طلبا کیلئے سکالرشپس کا اعلان

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبا کو دنیا کے درجنوں ممالک مختلف نوعیت کی سکالرشپس فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستانی طلبا کن کن ممالک میں، کن تعلیمی سطحوں پر اور کس نوعیت کی مالی معاونت کے تحت تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟اس کے علاوہ ان سکالرشپس میں حکومتِ پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا کردار کہاں تک فعال ہے؟تمام تر تفصیلات منظر عام پر آ گئیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستانی طلبا کیلئے نئے سال2026 میں امریکا، چین، یورپ، خلیجی ممالک اور دیگر خطوں میں مختلف سطحوں پر سکالرشپس کے مواقع موجود ہیں،ان میں کچھ پروگرام براہِ راست حکومتِ پاکستان کے تعاون سے چل رہے ہیں، جبکہ کئی سکیمیں ایسی ہیں ،جن پر قومی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا اور صرف امیدواروں کی نامزدگی کی ذمہ داری ایچ ای سی ادا کرتی ہے۔
امریکا کو پاکستانی طلبا کیلئے اعلیٰ تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کیلئے خصوصاً پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ سطح پر سب سے بڑا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔
پاک امریکا نالج کوریڈور کے تحت پاکستانی سکالرز کو امریکی جامعات میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں،اس کے ساتھ فُل برائٹ سکالرشپ سپورٹ پروگرام کے ذریعے بھی ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبا امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
یہ سکالرشپس مکمل یا جزوی مالی معاونت پر مشتمل ہوتے ہیں، جن میں ٹیوشن فیس، رہائش اور ماہانہ وظیفہ شامل ہوتا ہے اور یہ معاونت یا تو امریکی حکومت فراہم کرتی ہے یا پھر ایچ ای سی اس میں شریک ہوتی ہے۔















