رمضان کےآخری عشرےکاآغاز:ہزاروں فرزندانِ اسلام اعتکاف بیٹھ گئے

رمضان المبارک کے آخری عشرے کاآغاز،ملک بھرمیں ہزاروں فرزندانِ اسلام اعتکاف بیٹھ گئے۔
تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں سے فیض یاب ہونے اور آخری عشرے میں عبادات میں مشغول رہنے کے لیے فرزندانِ اسلام 20ویں رمضان کو غروبِ آفتاب سے قبل اعتکاف میں بیٹھ گئے۔
اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے یا خود کو روک لینے کے ہیں، اس طرح شریعت کی اصطلاح میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کی غرض سے مسجد میں قیام کرنے کو اعتکاف کہتے ہیں۔
اعتکاف سے مراد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے مسجد میں ٹھہرنا اور دنیاوی مشاغل سے قطع تعلق کر لینا ہے۔
مسنون اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کیا جاتا ہے۔ اس کا وقت 20 رمضان کو سورج غروب ہونے سے پہلے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے تک جاری رہتا ہے۔
مردوں کے لیے اعتکاف جامع مسجد میں کرنا افضل ہے، جبکہ خواتین اپنے گھر میں نماز کے لیے مخصوص جگہ پر اعتکاف کر سکتی ہیں۔
اعتکاف میں بیٹھنے والوں کے لیے بعض مساجد کی انتظامیہ اور مخیر حضرات کی جانب سے سحری اور افطاری فراہم کرنے کے خصوصی انتظامات بھی کیے جاتے ہیں جب کہ عام طور پر معتکفین کی سحر و افطاری کا ذمہ ان کے اہلخانہ کا ہوتا ہے۔
آخری عشرے کی طاق راتوں میں مسلمان رات بھر اللہ کے حضور عبادت کرتے ہوئے اپنی حاجات و مناجات پیش کریں گے۔
معتکف صرف شرعی یا طبعی ضرورت (جیسے قضائے حاجت یا جمعہ کی نماز کے لیے اگر مسجد میں انتظام نہ ہو) کے لیے مسجد کی حدود سے باہر نکل سکتا ہے۔ بلا ضرورت باہر نکلنے سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔
یہ عمل سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر بستی یا محلے میں کوئی ایک شخص بھی اعتکاف کر لے تو سب کی طرف سے ادائیگی ہو جاتی ہے۔















