قدیم مصر کے باشندے کینسر کا علاج بھی جانتے تھے؟

0
16

پاکستان ٹوڈے: کیا قدیم مصر کے باشندے کینسر کا علاج بھی جانتے تھے؟

تفصیلات کے مطابق قدیم ترین تہذیب کی سرزمین کے حوالے سے تاریخی داستانوں کا ایک نہ ختم ہونےوالا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اہرامِ مصر کو دیکھ کر دنیا آج بھی ششدر ہے کہ قدیم مصر کے باشندے واقعی اتنے ہنرمند تھے یا کسی اور سیارے کی مخلوق نے آکر یہ شاندار اہرام تعمیر کیے۔ مصری باشندوں کے بارے میں ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قدیم مصر کے باشندے کینسر کا علاج بھی جانتے تھے۔

ماہرین کو ہزاروں سال پرانی دو ایسی کھوپڑیاں ملی ہیں، جن کا جائزہ لے کر ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ قدیم مصری باشندے بیماریوں، ان کے علاج کے طریقوں اور دواؤں سے اچھی طرح واقف تھے۔ایک 30 سالہ مرد اور 50 سالہ عورت کی کھوپڑی میں سرجری کے واضح نشانات ملے ہیں، جن سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے کہ قدیم مصر کے لوگ کینسر کے علاج کی کوشش بھی کرچکے ۔

فرنٹیئرز اِن میڈیسن میں شائع ہونیوالی تحقیق کے مطابق قدیم مصر کے باشندے دوسرے بہت سے شعبوں کی طرح صحت کے شعبے میں بھی غیر معمولی مہارت کے حامل اور اپنے عہد کے دیگر خطوں کے لوگوں سے بہت آگے تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جو کچھ مصریوں نے حاصل کیا اور دنیا کے سامنے پیش کیا ،وہ اس دور تک کی ترقی اور اوزاروں کی مدد سے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مصری انتہائی ذہین انسان تھے۔لاشیں حنوط کرنے کا فن بذات خود اتنی بڑی مہارت ہے کہ اگر مصریوں نے کچھ اور نہ بھی کیا ہوتا تو بھی اُن کا نام تاریخ میں زندہ رہتا، تاہم تازہ تحقیق نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

Leave a reply