ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل :واٹس ایپ سکیورٹی شدید تنقید کی زد میں

0
8

واٹس ایپ کی سکیورٹی شدید تنقید کا نشانہ بن گئی۔ٹیکنالوجی کی نامور شخصیات ایلون مسک اور پاول دوروف نے میٹا کی ملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی سکیورٹی اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صارفین کے ساتھ دھوکہ قرار دیدیا ۔
ٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف نے واٹس ایپ کی سکیورٹی میں موجود خامیوں کو تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واٹس ایپ کے 95 فیصد پیغامات گوگل اور ایپل کے سرورز پر سادہ ٹیکسٹ کی صورت میں موجود ہوتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ واٹس ایپ انکرپشن کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن بیک اپ انکرپشن کا آپشن اکثر صارفین استعمال نہیں کرتے، لہٰذا ان کی نجی گفتگو بیشتر کمپنیوں کیلئے کھلی کتاب ہے۔
پاول دوروف کا کہنا ہے کہ ایپل اور گوگل ہر سال ہزاروں بار واٹس ایپ کے بیک اپ پیغامات تیسرے فریق کو فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کے بقول ٹیلی گرام نے اپنی 12 سالہ تاریخ میں اب تک کسی کو ایک بائٹ ڈیٹا بھی فراہم نہیں کیا۔
ایکس ( سابقہ ٹویٹر) اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے بھی پاول دوروف کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واٹس ایپ پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری طرف واٹس ایپ کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سےسگنل پروٹوکول کے ذریعے پیغامات کو انکرپٹ کررہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ بھیجنے والے اور وصول کرنیوالے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ان پیغامات کو نہیں پڑھ سکتا ہے۔

Leave a reply