بصارت سے محروم درزی کی جدوجہد نے ثابت کر دیا کہ ہمت کبھی شکست نہیں مانتی

0
6

کینیا سے تعلق رکھنے والے ایک نابینا درزی چارلس نے اپنی غیر معمولی ہمت اور حوصلے سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ وہ ایک عام زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک ایک رات سونے کے بعد صبح بیدار ہونے پر ان کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو گئی۔

اس مشکل صورتحال کے باوجود چارلس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی زندگی کو نئے عزم کے ساتھ جاری رکھا۔ لوگوں نے ابتدا میں یہ سمجھا کہ وہ شاید اب دوسروں کے سہارے زندگی گزاریں گے یا معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہو جائیں گے، تاہم انہوں نے درزی کا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

چارلس نے اپنی معذوری کو رکاوٹ بنانے کے بجائے اس کے مطابق نئے طریقے اپنا لیے۔ وہ کپڑوں کی پیمائش کے لیے فیتے پر مخصوص نشانات لگاتے ہیں جنہیں چھو کر اندازہ لگاتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ گنتی کے ذریعے پیمائش کو ذہن میں محفوظ رکھتے ہیں۔

سلائی مشین میں دھاگہ ڈالنے جیسے مشکل کام کو بھی انہوں نے ایک منفرد طریقے سے آسان بنایا ہے۔ وہ ایک باریک تیلی کو نوک دار بنا کر اس کی مدد سے مشین میں دھاگہ ڈالتے ہیں۔

ان کے گاہکوں کے مطابق چارلس کا کام کئی ایسے درزیوں سے بہتر ہے جو مکمل بینائی رکھتے ہیں اور وہ نہایت نفاست کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

چارلس کی کہانی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بصیرت صرف آنکھوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ حوصلہ، محنت اور عزم انسان کو ہر مشکل پر قابو پانے کی طاقت دیتے ہیں۔

Leave a reply