بجٹ سے قبل مہنگائی کا طوفان،سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ

بجٹ کے اعلان سے قبل ہی سولر پینلز مہنگے ہوگئے ہیں، جبکہ سیلز ٹیکس میں اضافے کے بعد مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ سے قبل ہی سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق سولر پینلز کی قیمتوں میں فی پلیٹ 7 ہزار سے 9 ہزار روپے تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں انورٹرز کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔
585 واٹ سولر پینل کی قیمت 18 ہزار روپے سے بڑھ کر 27 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 645 واٹ پینل کی قیمت 22 ہزار روپے سے بڑھ کر 31 ہزار 200 روپے ہو گئی ہے۔
اسی طرح 720 واٹ سولر پینل کی قیمت 25 ہزار روپے سے بڑھ کر 33 ہزار 500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
خیال رہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک خصوصی اسکیم بھی زیر غور ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت دیہات میں نصب سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی کا کریڈٹ شہری علاقوں میں رہنے والے صارفین کو منتقل کیا جا سکے گا۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں سولر توانائی کے لیے وہیلنگ پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ اسکیم کے تحت ایسے شہری جو شہروں میں زمین کے مالک نہیں لیکن دیہات میں زمین رکھتے ہیں، وہ وہاں سولر سسٹم نصب کرکے اپنے شہری گھروں یا فلیٹس کے بجلی بلوں میں ریلیف حاصل کر سکیں گے۔















