بجٹ کی پیشی میں غیر متوقع تاخیر نے حکومتی معاشی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، صداقت مجید

0
11

سینئر وائس چیئرمین امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی پنجاب میاں صداقت مجید نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ کی پیشی میں غیر متوقع تاخیر نے حکومتی معاشی حکمت عملی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ان کے مطابق ابتدا میں حکومت نے 5 جون کو بجٹ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ خبر سامنے آئی کہ بجٹ کی تیاری مکمل نہیں ہو سکی اور بعض اہم امور پر تاحال اتفاقِ رائے نہیں ہو پایا۔

میاں صداقت مجید کا کہنا ہے کہ معاشی اور سیاسی حلقوں میں اس تاخیر کو محض تکنیکی مسئلہ نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تحفظات اور سخت شرائط سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کی جانب سے جب ابتدائی بجٹ خاکہ آئی ایم ایف کو پیش کیا گیا تو ادارے نے ٹیکس وصولیوں اور مالی اہداف میں مزید سختی کا مطالبہ کیا، جس کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر حکومت کو اندازہ ہوا کہ نئے مالی سال میں مطلوبہ ریونیو اکٹھا کرنا آسان نہیں ہوگا، جس نے بجٹ کی تیاری کو مزید مشکل بنا دیا۔

میاں صداقت مجید کے مطابق آئی ایم ایف پر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن جب کوئی ملک مالی معاونت اور قرضوں پر انحصار کرتا ہے تو اسے اخراجات، آمدن اور پالیسی اصلاحات میں سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تاخیر اس بات کی عکاس ہے کہ حکومت ایک طرف آئی ایم ایف کے تقاضوں اور دوسری جانب عوامی ردعمل کے دباؤ کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق آنے والا بجٹ ملکی معیشت اور حکومت دونوں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply