
عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق کیس میں قرار دیا ہے کہ معاہدہ بدستور نافذالعمل ہے اور بھارت اسے یک طرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
فیصلے کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر و ڈیزائن میں معاہدے کی شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔ عدالت نے بعض تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق عبوری پابندیاں بھی عائد کی ہیں جو متوقع حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک برقرار رہیں گی۔
عدالت کے مطابق بھارت نے کارروائی میں اپنا مؤقف پیش نہیں کیا اور معاہدے کی معطلی کا اعلان معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ جواز قرار نہیں دیا گیا۔
پاکستان نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں ہوا اور بھارت اس کی تمام ذمہ داریوں کا پابند ہے۔ حکومت پاکستان کے مطابق نیوٹرل ایکسپرٹ کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے، جس کے بعد مکمل فیصلے کا جائزہ لے کر معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ رابطے کی راہ تلاش کی جائے گی۔















