
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی لاہور آمد، شہید کارکن اشتیاق احمد کے گھر پہنچ گئے۔
سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجہ نے اہلخانہ سے ملاقات کی، تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہوئے درجات کی بلندی کی دعا کی۔
اس موقع پر سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس کی سکیورٹی لینے سے بھی انکار کردیا، بھیرہ ریسٹ ایریا میں ڈی ایس پی سے مکالمے کے بعد سکیورٹی واپس بھجوا دی۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ شہریوں کو آئین کے تحت اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے، لانگ مارچ کسی عہدے یا کرسی کے لیے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے ہے۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ اشتیاق احمد میلاد منا رہا تھا، اسے ابلتے ہوئے گڑھے میں پھینک دیا گیا، آج اس کی فاتحہ خوانی کے لیے آیا ہوں تو لاہور بند کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید اشتیاق احمد کے گھر سے پنجاب میں اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز ہوگیا ہے، ان شاء اللہ یہیں سے انقلاب شروع ہوگا، ہم اپنے شہداء اور مظلوم کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔















