
بھارتی کرکٹ ٹیموں کا یہ طرزِ عمل “باتیں کرلیں گے مگر ٹرافی نہیں لیں گے” کے مصداق بھارت کے دوغلے معیار اور کھیل میں سیاست کو گھسیٹنے کی واضح مثال بن چکا ہے۔ ایک طرف بھارتی حکام گراؤنڈ پر پاکستانی حکام سے خوش دلی سے ملتے اور باتیں کرتے نظر آتے ہیں، لیکن دوسری طرف عین ٹرافی لینے کے وقت سیاسی ایجنڈے کے تحت پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
کھیل ہمیشہ سے قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ رہے ہیں، مگر بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کی ضد اور اس قسم کے رویوں نے کھیلوں کے عالمی وقار کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے، جہاں میدانِ کھیل کو بھی سیاسی دشمنی اور ہٹ دھرمی کی نذر کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سال 2025 میں بھارتی مینز ٹیم نے ایشیا کپ جیتنے کے بعد مروجہ پروٹوکول کے تحت محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا تھا، اور اب 2026 میں بھارتی ویمنز ٹیم نے بھی اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے ویمنز ایشیا کپ جیتنے کے بعد پوڈیم پر جا کر محسن نقوی کے ہاتھوں ٹرافی لینے سے صاف انکار کر دیا۔
بھارتی میڈیا اور رپورٹس کے مطابق یہ فیصلے بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کی سیاسی اور سفارتی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت بھارتی ٹیمیں پاکستان کے اعلیٰ سیاسی و حکومتی عہدیداروں کے ہاتھوں ٹرافی یا انعامات قبول نہیں کر رہیں۔















