
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ڈاکٹرز سے ہفتے میں 102 گھنٹے تک کام لینے کو غیر انسانی قرار دے دیا۔
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں طویل ڈیوٹی اوقات کے ڈاکٹروں کی چوکسی اور کارکردگی پر اثرات کی نشاندہی کی گئی۔
عدالت نے معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل( پی ایم ڈی سی) کے سپرد کرتے ہوئے کونسل کو جائزہ لینے اور اپنی سفارشات حکومت کو بھجوانے کی ہدایت جاری کی۔















