امریکی انتخابات میں ریپبلکنز کو بڑادھچکا، پارٹی رہنماؤں نے شکست کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

0
10

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بڑے انتخابی دھچکے کا سامنا ہے جبکہ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کینساس، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا سمیت ان ریاستوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جہاں دو سال قبل ٹرمپ نے نسبتاً آسانی سے کامیابی حاصل کی تھی،اس کے علاوہ آئیووا میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کے کئی رہنماؤں اور سیاسی حکمتِ عملی کے ماہرین نے شکست کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر ڈالنا شروع کردی ہے۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا کہ اس شکست کی ذمہ داری مکمل طور پر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے اور یہ دراصل امریکی صدر کو مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔
ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے بھی پارٹی کی انتخابی مہم کو غلطیوں کا مجموعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ریاستوں میں ووٹروں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔
ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، ان کی بعض غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی تشویش کو کم اہمیت دینے کے رویے نے پارٹی کی انتخابی کارکردگی کو متاثر کیا۔ ابتدا میں ریپبلکنز کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا، تاہم انہیں امید تھی کہ سینیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں گے۔ اب انتخابی رجحانات دونوں ایوانوں میں اکثریت کھونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 45 نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ری پبلیکین نے 36 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ 218 نشستوں والے ایوان نمائندگان میں ابتدائی نتائج کے مطابق 113 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 62 پر ری پبلیکنز نے کامیابی حاصل کی ہے۔
ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر ریاست ورجینیا سے امریکی سینیٹ کے لیے دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے کر ایوانِ بالا میں اپنی چوتھی مدت حاصل کرلی۔

Leave a reply