
پی ٹی آئی خیبرپختونخواکےناراض ارکان کیخلاف کارروائی کرنےکافیصلہ کرلیاگیا۔
خیبر پختونخوا میں بجٹ منظوری کے مرحلے کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اندر گروپ بنا کر سامنے آنے والے ناراض اراکین بجٹ منظوری کے بعد وزیراعلیٰ کے نشانے پر آ گئے ہیں اور ان کے ترقیاتی فنڈز روکنے اور پارٹی کے اندر سیاسی طور پر انہیں تنہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بجٹ اجلاس کے دوران ہی ناراض اراکین نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اور صوبائی حکومت عمران خان کی رہائی کے لیے اقدامات کے بجائے انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔
بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران سابق اسپیکر اور پی ٹی آئی کے ناراض رکن مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت انہیں عمران خان کی رہائی کامطالبہ کرنے پر سزا دینے کے لیے ان کی اسکیمیں شامل نہیں کر رہی۔
مشتاق غنی کے علاوہ دیگر ناراض اراکین نے بھی بجٹ اجلاس میں کھل کر اپنی ہی حکومت پر تنقید کی تھی۔ سابق وزیر اور رکن اسمبلی سجاد بارکوال نے ضمنی بجٹ کے حوالے سے احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔















