بھاٹی گیٹ واقعہ:کب کیاہوا؟

0
1

بلاگ:عتیق مجید

لاہور کے علاقے داتا دربار کے قریب غفلت نے ایک گھر کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لیں۔ ایک کھلا مین ہول ماں کی گود اور معصوم بچی کی سانسیں نگل گیا۔ 24 سالہ سعدیہ اور اس کی صرف 10 ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ زندگی کی جنگ ہار گئیں، اور پورا شہر سوگ میں ڈوب گیا۔
بدھ کی شب بھاٹی گیٹ کے علاقے میں سعدیہ اپنی ننھی بیٹی کو سینے سے لگائے گھر لوٹ رہی تھیں، کسی کو کیا خبر تھی کہ چند لمحوں بعد یہ ماں اپنی بچی سمیت اندھیروں میں دفن ہو جائے گی۔ اچانک کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد چیخ و پکار مچ گئی، ریسکیو 1122 کو فوری کال کی گئی، ٹیمیں چند منٹ میں پہنچ گئیں، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
ریسکیو اہلکاروں نے گھنٹوں اندھی سیوریج لائن میں جدوجہد کی۔ تقریباً چھ گھنٹے بعد ماں کی لاش آؤٹ فال روڈ کے مین سیوریج سے ملی، جبکہ ننھی ردا فاطمہ کی لاش سترہ گھنٹے بعد برآمد ہوئی۔ وہ بچی جس نے ابھی بولنا بھی نہیں سیکھا تھا، خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔واقعے کے وقت جائے حادثہ پر موجود ساس مدد کے لیے چیختی رہی، ہاتھ پھیلاتی رہی، مگر غفلت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ایک ماں اپنی اولاد کے ساتھ زندگی ہار گئی، اور نظام دیکھتا رہ گیا۔
سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کا شوہر آخرکار منظرِ عام پر آ گیا، ٹوٹی آواز، نم آنکھیں اور کانپتے لہجے میں غلام مرتضیٰ نے وہ الزامات لگا دیے جو سننے والوں کو جھنجھوڑ گئے۔ بھاٹی گیٹ کے قریب پیش آنے والے دلخراش واقعے پر غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ وہ مدد اور انصاف کی امید لے کر تھانے پہنچا تھا، مگر اسے مجرم بنا کر حراست میں لے لیا گیا، تشدد کیا گیا اور بیوی اور معصوم بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کروانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق ڈی ایس پی اور ایس ایچ او زین عباس بار بار کہتے رہے کہ سچ یہی ہے کہ تم نے اپنی بیوی اور بچی کو مارا ہے، جبکہ وہ صرف اپنی برباد ہوتی زندگی کا نوحہ لے کر آیا تھا۔سانحے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی سنگین لاپرواہی کا سخت نوٹس لیا۔ وزیراعلیٰ نے ذمہ دار افسران اور کنٹریکٹر کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خاندان واقعے سے کچھ دیر قبل داتا دربار کے قریب موجود تھا، لیکن ایک لمحے کی غفلت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی ایل ڈی اے کی پوری ٹیم معطل کر دی گئی، کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور نجی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس طلب کیا اور غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کرنے کی ہدایت دی۔ ٹیپا، ایل ڈی اے اور واسا کے افسران کے خلاف بھی سخت ایکشن کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت نے جاں بحق ہونے والی خاتون کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان تو کر دیا، مگر سوال آج بھی زندہ ہے۔کیا کوئی رقم ایک ماں کی ممتا اور ایک معصوم بچی کی جان کا بدل ہو سکتی ہے؟

Leave a reply