
اسلام آباد میں حکومت کی تکنیکی کمیٹی اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل اہم مالیاتی امور پر مفاہمت طے پا گئی۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت وفاق کو آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف کی اضافی رقم فراہم کی جائے گی جبکہ قومی محاصل کی تقسیم کے موجودہ این ایف سی فارمولے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ وفاق رواں مالی سال کے ٹیکس ہدف کی بنیاد پر آئندہ مالی سال صوبوں کو محاصل فراہم کرے گا، جبکہ اضافی ریونیو وفاقی سطح پر استعمال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا ٹیکس ہدف 15264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں 2259 ارب روپے کا اضافہ شامل ہوگا۔
اس کے علاوہ صوبے وفاق کو مجموعی طور پر 1200 ارب روپے سے زائد گرانٹس کی صورت میں فراہم کریں گے، جس میں پنجاب سے تقریباً 620 ارب، سندھ سے 310 ارب، خیبرپختونخوا سے 180 ارب اور بلوچستان سے 85 ارب روپے تک کی رقوم شامل ہونے کا امکان ہے۔
معاہدے کے مطابق یہ رقوم آئندہ چند برسوں میں صوبوں کو واپس کی جائیں گی، جبکہ بجٹ سے قبل اس مالیاتی فریم ورک کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔















