منٹو پارک سے گریٹر اقبال پارک تک:

0
85

رپورٹ: ماریہ شبیر 

لاہور— وہ شہر جو صدیوں پر محیط تاریخ، ثقافت اور تہذیب کا ایک زندہ شاہکار ہے۔ اسی لاہور کے قلب میں واقع زمین کا ایک ایسا ٹکڑا، جس نے برصغیر کی تقدیر کو بدلتے دیکھا اور جس کے ناموں کی تبدیلی کے پیچھے تاریخ کے کئی ابواب پوشیدہ ہیں۔ یہ کہانی ہے “منٹو پارک” سے “گریٹر اقبال پارک” بننے تک کی، جہاں ماضی کی داستانیں اور مستقبل کے خواب ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔

اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک ہی جگہ کے اتنے نام کیسے ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیں تاریخ کے دریچوں میں جھانکنا ہوگا۔

اس تاریخی میدان کی داستان مغلوں کے سنہری دور سے شروع ہوتی ہے۔  مغل دور میں اس میدان میں شاہی فوج کی مشقیں ہوتی تھیں۔ بعد ازاں، سکھوں کے دورِ حکومت میں اسے باقاعدہ “پریڈ گراؤنڈ” کا نام دیا گیا۔

انگریزوں نے 1849 میں لاہور پر اپنے قبضے کے بعد، برصغیر کے گورنر جنرل لارڈ منٹو کے نام پر اس کا نام “منٹو پارک” رکھ دیا۔ لیکن اس میدان کا مقدر کسی گورنر کے نام تک محدود رہنا نہیں تھا، اسے تو تاریخِ عالم میں امر ہونا تھا۔

پھر تاریخ میں وہ عظیم دن آیا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ 23 مارچ 1940 کو اسی منٹو پارک کے وسیع میدان میں قائداعظم محمد علی جناح کی زیرصدارت آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک تاریخی اجلاس منعقد ہوا۔ برصغیر کے کونے کونے سے آئے ہزاروں مسلمانوں نے یہاں “قراردادِ لاہور” منظور کی، جسے ہم آج “قراردادِ پاکستان” کہتے ہیں۔ یہ وہی تاریخی زمین تھی جہاں سے ایک آزاد، خود مختار مسلم ریاست کے قیام کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔

چونکہ پاکستان کے اس عظیم خواب اور تصور کے خالق شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال تھے، اس لیے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، اس جگہ کی تاریخی اہمیت اور علامہ اقبال کی فکری قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس کا نام ہمیشہ کے لیے “اقبال پارک” رکھ دیا گیا۔

وقت گزرتا گیا اور یہ پارک ہماری قومی عظمت اور آزادی کا استعارہ بن گیا۔ اکتوبر 2015 میں، حکومت نے اس تاریخی ورثے کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور اسے ایک بین الاقوامی پہچان دینے کے لیے ایک عظیم الشان منصوبے کا آغاز کیا۔

 تقریباً 981 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ نومبر 2016 میں مکمل ہوا، جس کے بعد پارک کا رقبہ بڑھا کر 125 ایکڑ تک پھیلا دیا گیا۔ دسمبر 2016 میں اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا اور یوں یہ پارک اپنی وسعت، جدید سہولیات اور بے پناہ خوبصورتی کے باعث “گریٹر اقبال پارک” کے نام سے ایک قومی عظمت کی پہچان بن کر منظر پر آگیا۔

آج کا گریٹر اقبال پارک صرف درختوں اور سبزے کا نام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ اور جدیدیت کا ایک حسین امتزاج ہے۔ سال 2018 میں یہاں پاکستان کے پہلے “نیشنل ہسٹری میوزیم” کا افتتاح کیا گیا، یہ پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل میوزیم ہے، جو ہماری آزادی کی جدوجہد کو نئی نسل کے سامنے ایک زندہ حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے۔

آج یہ پارک اپنے دامن میں پاکستان کی پہچان کے چند سب سے معتبر اور اہم مقامات کو سمیٹے ہوئے ہے،

  • مینارِ پاکستان: جو قراردادِ پاکستان کی لازوال یادگار بن کر آسمان سے باتیں کرتا ہے۔
  • مزارِ حفیظ جالندھری: پاک سرزمین کے قومی ترانے کے خالق کی ابدی آرام گاہ۔
  • مزارِ اقبال: شاعرِ مشرق، حکیم الامت کا مزار جو اسی پارک سے متصل ہے۔
  • نیشنل ہسٹری میوزیم: پاکستان کی تاریخ کو محفوظ کرنے والا پہلا ڈیجیٹل میوزیم۔
  • علمی و تفریحی سہولیات: جن میں ایک وسیع لائبریری، مغل اسٹائل بارہ دری، اور واکنگ ٹریکس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ
  • ایک خوبصورت مصنوعی جھیل، 800 فٹ طویل میوزیکل فاؤنٹین، بگی ٹریک، بچوں کے لیے پلے ایریا، اوپن ایئر جم، اور روایتی کھانوں سے سجائی گئی فوڈ اسٹریٹ۔

آج گریٹر اقبال پارک کی صورت میں یہ جگہ محض کوئی عام تفریحی مقام یا باغ نہیں ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ دھڑکتا ہوا دل ہے، جو ہر آنے والے کو بتاتا ہے کہ یہ ملک کتنی قربانیوں، کتنے عظیم خوابوں اور کس قدر بے مثال محنت کے بعد حاصل کیا گیا ۔ یہ ہماری قومی پہچان کا، ہمارے ماضی کا اور ہمارے روشن مستقبل کا ایک زندہ نشان ہے۔

Leave a reply