اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے،بادشاہ چارلس کاٹرمپ پرطنز

0
2

برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سرکاری عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہلکے پھلکے انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو امریکا میں لوگ “فرانسیسی زبان” بول رہے ہوتے۔
سرکاری عشائیے کے دوران اپنے خطاب میں بادشاہ چارلس نے ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو یورپی ممالک جرمن زبان بول رہے ہوتے۔
اس پر برطانوی بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “آپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو یورپ جرمن بول رہا ہوتا، تو میں بھی یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔”بادشاہ چارلس نے اس موقع پر شمالی امریکا کی برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی تاریخ کا حوالہ بھی دیا، جہاں دونوں طاقتوں کے درمیان امریکا کی آزادی سے قبل تقریباً 250 برس تک مقابلہ جاری رہا۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں ڈیووس اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر دوسری جنگ عظیم میں امریکا مدد نہ کرتا تو یورپ کے ممالک جرمن اور کچھ علاقوں میں جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔

Leave a reply