ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سے منسلک لندن کے 2 لگژری گھر فروخت کیلئے پیش

برطانوی اخبار دی سنڈے ٹائمز کے مطابق لندن کے انتہائی پوش علاقے پیلس گرین میں واقع دونوں اپارٹمنٹس کی مجموعی مالیت 35.75 ملین پاؤنڈ، یعنی تقریباً 48 ملین ڈالر، تھی، تاہم مالی پابندیوں کے باعث جائیدادوں کے مالک نے رہن کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا، جس کے بعد دونوں جائیدادیں رسیورشپ میں چلی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پانچ بیڈ رومز پر مشتمل ایک ڈوپلیکس پینٹ ہاؤس 2016 میں 19 ملین پاؤنڈ میں خریدا گیا تھا، جسے اب تقریباً 12 ملین پاؤنڈ میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے، یعنی خریداری کی قیمت سے تقریباً 7 ملین پاؤنڈ کم۔
دوسرا پینٹ ہاؤس 2014 میں 16.75 ملین پاؤنڈ میں خریدا گیا تھا اور وہ بھی رسیورشپ میں جاچکا ہے، تاہم اسے تاحال عوامی طور پر فروخت کے لیے پیش نہیں کیا گیا اور اس کی متوقع قیمت بھی سامنے نہیں آئی۔
دونوں جائیدادیں ایرانی بینکر علی انصاری کے نام پر رجسٹرڈ ہیں، جنہیں امریکی محکمہ خزانہ نے رواں سال جولائی میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق علی انصاری ایک وسیع عالمی اثاثہ جاتی نیٹ ورک کی نگرانی کرتے ہیں، جس سے مجتبیٰ خامنہ ای اور ایران کے حکمران طبقے کے دیگر افراد کو فائدہ پہنچتا ہے۔















