مشرق وسطیٰ میں جنگ:خلیجی ممالک کو1990کےبعدبدترین معاشی دھچکےکا خدشہ

مشرق وسطیٰ میں جنگ کےباعث خلیجی ممالک کو1990کےبعدبدترین معاشی دھچکےکا خدشہ ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کےمطابق خلیجی ممالک کو مارچ 2026 میں جاری علاقائی کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ کے خطرات کے باعث 1990 کی دہائی (خلیجی جنگ) کے بعد بدترین معاشی گراوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق اگر یہ تنازع طویل ہوا تو خطے کی بڑی معیشتوں بالخصوص قطر اور کویت کی مجموعی قومی پیداوارجی ڈی پی میں اس سال 14 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
آبنائے ہرمزکی ممکنہ بندش سے تیل اور گیس کی برآمدات رکنے کا خطرہ ہے، جو خلیجی ممالک کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اہم توانائی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر حملوں کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
جنگی صورتحال کی وجہ سے خطے میں سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہونے کی توقع ہے، جس سے 34 ارب سے 56 ارب ڈالر تک کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رسد میں تعطل کی صورت میں تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو عالمی سطح پر تو مہنگائی لائے گی لیکن خطے کے بجٹ خسارے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IMF اور ورلڈ بینک) نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ خلیجی ریاستوں کے پاس مالی ذخائر موجود ہیں، لیکن طویل جنگ ان کی معاشی تنوع (Diversification) کی کوششوں اور وژن 2030 جیسے منصوبوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔














