ایم کیو ایم رہنماؤں کی کراچی میں پریس کانفرنس

0
24

پاکستان ٹوڈے: شہر قائد میں اس وقت ظلم کی انتہا ہوگئی ہے، موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کے نام پر ہماری نسل کشی ہورہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹریٹ کرائم تو پاکستان بھر میں ہے لیکن گولی کون مار رہا ہے؟ کراچی میں گولڈ میڈلسٹ نوجوانوں کو مارا جارہا ہے, اس طرح کے واردات اسٹریٹ کرائم نہیں بلکہ یہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔

شہر قائد کے جوانوں کےلئے ایک نوکری تک نہیں ہے، جب ماؤں نے پرائیویٹ اداروں میں بچوں کو پڑھایا تو آج ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں۔ کیسے کوئی بھی آکر گولی ماردیتا ہے یہ آسٹریٹ کرائم نہیں ہے، بیس سال اٹھارہ سال نوجوانوں کو مارا جارہا ہے ماؤں کو ہم کیسے تسلی دینگے۔

71 سے زائد نوجوانوں کو حال ہی میں کراچی میں شہید کردیا گیا، ہم اشرافیہ سے کہتے آرہے ہیں کہ ہم پر رحم کیا جائے، یہاں کے لوگ مزاحمت نہیں کرتے تو ویسے ہی مارا جائیگا؟ ان معصوم نوجوانوں کی لاشوں کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

میں ریاستی اداروں،صوبائی حکومت کو کہنا چاہتا ہوں خدا کے واسطے کوئی اقدامات کرے، کتنے اور نوجوان مرینگے تو اقدامات اٹھائے جائینگے؟

پولیس کہتی ہے ڈاکوؤں کبھی نہ کبھی پکڑے گئے ہیں لیکن ضمانتوں پر رہا ہے، ریاست ضمانت پر رہائی دلوانے والوں کو کیوں گرفتار نہیں کرتی، ہر آدمی ہتھیار لیکر گھوم رہا ہے،ہمیں نسل کشی سے خدارا بچائے۔

Leave a reply