پاکستان میں انٹرنیٹ فائروال منصوبہ قابل عمل ہو پائے گا؟

0
52

کیا پاکستان میںانٹرنیٹ فائروال منصوبہ قابل عمل ہو پائے گا؟ 

کیابراہ راست سیٹیلائٹ سروس کے بعد انٹرنیٹ مانیٹرنگ ممکن ہو گی؟۔  ماہرین نے بتا دیا۔  فائر وال کے ذریعے انٹرنیٹ پر نامناسب مواد کو روکا اورناپسندیدہ ویب سائٹس کو بلاک کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ کو جزوی طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے، جن میں شمالی کوریا، چین اور کچھ دیگر ممالک شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق فائروال سسٹم بنیادی طور پر جو انٹرنیٹ گیٹ ویز ہیں، اسے وہاں لگایا جاتا ہے، جہاں سے انٹرنیٹ اپ لنک اور ڈاؤن لنک ہوتا ہے اور اس کا مقصد انٹرنیٹ ٹریفک کو فلٹر کرنا ہوتا ہے، مگرفائر وال سسٹم وہاں کام نہیں کرپاتا، جہاں صارفین مختلف ویب سائٹس دیکھنے کیلئے وی پی این استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان انٹرنیٹ کے بارے میں جس طرح کی پالیسیز وضع کر رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ گوگل ، فیس بک اور ایکس جیسی بڑی کمپنیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ پاکستان میں اپنے سرور انسٹال کریں، تاکہ ناپسندیدہ مواد ہٹوایا جا سکے، تاہم ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی سٹارلنکس سیٹیلائٹ کے ذریعے براہ راست انٹرنیٹ سروسز پروائڈ کرنے جا رہی ہے۔

جس کے بعد صارفین کا انٹرنیٹ سروس پروائڈرز پر انحصار ختم ہو جائے گا اور وہ براہ راست سیٹیلائٹ سے منسلک ہو جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براہ راست سیٹیلائٹ سروس انڈونیشیا اور قطر ایئرلائن میں مہیا کر دی گئی ہے ، جس کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اب مستقبل میں کوئی بھی فائر وال کے ذریعے انٹرنیٹ سروسز کو ریگولیٹ نہیں کر پائے گا۔

Leave a reply