سپریم کورٹ نےحکومت سےکچی آبادیوں سےمتعلق پالیسی رپورٹ طلب کرلی

0
108

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے وفاقی حکومت سے کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کرلی ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنےکےکیس کی سماعت کی۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صوبوں اور لوکل گورنمنٹ کا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت صوبائی اختیار پر کیا قانون سازی کر سکتی ہے اور کچی آبادی کی تعریف کیا ہے؟
جسٹس حسن اظہر رضوی نے قبضہ گروپوں کے بارے میں سوال اٹھایا، جو ندی نالوں کے کنارے کچی آبادیاں بنا لیتے ہیں اور عوامی سہولت والے پلاٹس پر مکانات تعمیر کر لیتے ہیں۔
سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ ان کی نوٹی فائی کی گئی دس کچی آبادیاں ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے لئے موجود قوانین کو نافذ کیا جائے ۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تجاوزات کی تعمیر میں اداروں کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں اور قبضہ کرنے کے لئے سب سے پہلے چھپر ہوٹل بنتا ہے، جس کے بعد آہستہ آہستہ آبادیاں بن جاتی ہیں۔

Leave a reply