عدالت کی عمران خان کی آنکھوں کامعائنہ کرانےکیلئےڈاکٹرزکی ٹیم تشکیل دینےکی ہدایت

0
7

سپریم کورٹ نےعمران خان کی آنکھوں کامعائنہ کرانےکےلئے ڈاکٹرزکی ٹیم تشکیل دنےکی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ کودوران سماعت رپورٹ پیش کی گئی۔
عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہاگیاکہ عمران خان نے جیل میں ملنےوالی طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے اور آنکھوں کے ماہرڈاکٹرز تک رسائی مانگی ہے۔
اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی دینے کیلئے تیار ہیں۔
عدالت نےکہاکہ عمران خان کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، وہ اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں، ان سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں، یہ نہیں کہیں گےکہ عمران خان کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نےعمران خان کی آنکھ کا معائنہ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معائنے کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی، دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کیے جائیں گے، صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے،صحت کے معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے، صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نےعدالت کوبتایاکہ قیدیوں کوصحت کی سہولیات فراہم کرناریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے، ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں اوریجنل کیس میں سماعت کا آرڈر ریزرو کر رہے ہیں۔
عدالت نےعمران خان کےبچوں کےساتھ ٹیلفونک رابطوں کی سہولت دینےکاحکم بھی دیا۔

Leave a reply