رے-بین میٹا سمارٹ گلاسز سے ریکارڈ ویڈیوز، پرائیویسی بحث کا مرکز

0
7

رے-بین میٹا سمارٹ گلاسز سے ریکارڈ کی جانیوالی ویڈیوز کو کمپنی کے سسٹمز کے ذریعے انسانی عملہ بھی دیکھ سکتا ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جب صارفین ان سمارٹ چشموں کی مدد سے ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں یا ان میں موجود مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق فیچرز استعمال کرتے ہیں، تو بعض حالات میں یہ مواد کمپنی کے ڈیٹا سسٹمز تک منتقل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں اس مواد کو مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنانے اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مخصوص ٹیموں یا بیرونی کنٹریکٹرز کے ذریعے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس نوعیت کا ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے تربیتی نظام کا حصہ بن جاتا ہے تو بعد میں اس کے استعمال پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔
دوسری جانب کمپنی کا مؤقف ہے کہ صارفین کی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے چہروں کو دھندلا کرنے اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم تحقیق میں شامل بعض کارکنوں کے مطابق یہ اقدامات ہر صورتحال میں مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود یہ سمارٹ چشمے عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور ان میں نصب کیمرہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام صارفین کو اپنی نظر کے زاویے سے تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس نے جدید ٹیکنالوجی اور پرائیویسی کے درمیان توازن پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

Leave a reply