کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کیلئےہی استعمال ہو گی،وزیراعظم

0
9

وزیراعظم شہبازشریف نےکہاہےکہ تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس منعقدہوا،جس میں وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت کے اثرات اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں بتایاگیاکہ حکومتی پالیسی کےتحت تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔جبکہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم کو موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں، وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائےگا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح ریاستی ملکیتی اداروں اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف ہدایت کے دنیا بھر میں موجود تمام پاکستانی سفارتخانے23مارچ کی تقریبات کوانتہائی سادگی سےمنائے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ قانون نافذکرنےوالےادارےاورایف بی آر اپنے پرانےطریقہ کارکےمطابق فرائض انجام دیں گےاُن پرہفتہ وارچار روز والا اطلاق نہیں ہوگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا۔
اجلاس کوبریفنگ دی گئی کہ حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد ہوگا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاون خصوصی کی تنخواہوں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر اجلاس کو آگاہی دی گئی۔
اجلاس کےدوران گفتگوکرتےہوئےوزیراعظم شہبازشریف کاکہناتھاکہ سرکاری افسران، وزراء، وزرا مملکت اور معاون خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی عائد رہے گی، ان تمام سادگی اور کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عمل درآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔

Leave a reply