جنوبی کوریامیں ٹیکنالوجی انقلاب ،ڈرون اورروبوٹ سےڈیلیوری کا کامیاب تجربہ

جنوبی کوریا کے جزیرے جیجو میں ڈرون اور روبوٹ کے ذریعے خودکار ترسیل کا ایک منفرد تجربہ کیا گیا ہے، جس میں ڈرون کے ذریعے فرائیڈ چکن اور گھریلو اشیاء ایک دور دراز جزیرے تک پہنچائی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق ایک ڈرون نے گیم نونگ بندرگاہ سے پرواز کرتے ہوئے تقریباً 3 کلومیٹر سمندر عبور کیا اور بییانگ جزیرے تک سامان پہنچایا۔ وہاں لینڈنگ کے بعد ایک خودکار روبوٹ نے پارسل وصول کیا اور تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے مقررہ مقام تک اسے پہنچایا، جہاں ایک مقامی شخص نے سامان وصول کیا۔
یہ تجربہ جنوبی کوریا میں حکومت کی حمایت سے چلنے والے ڈرون ڈیلیوری منصوبے کی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ کوریا ایروسپیس ایڈمنسٹریشن (KASA) اور الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ETRI) کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں تقریباً 80 ڈرون ڈیلیوری ٹرائلز مکمل کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد آئندہ پانچ سال میں ڈرون اور روبوٹ پر مبنی مکمل خودکار ترسیلی نظام تیار کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈرونز عام کمرشل ڈرونز کے مقابلے میں کہیں زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو تقریباً 40 کلوگرام تک سامان منتقل کر سکتے ہیں۔ ان تجربات میں چاول کے تھیلے، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر روزمرہ سامان مختلف مقامات تک پہنچایا گیا۔
ماہرین کے مطابق ڈرون ڈیلیوری کے شعبے کو عام طور پر فضائی تحفظ، حادثات کے خدشات اور پرائیویسی جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، تاہم جیجو میں یہ تجربہ مقامی انتظامیہ کے تعاون سے کامیابی سے کیا گیا۔
کوریا ایروسپیس ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ ان تجربات کا مقصد تکنیکی بہتری اور مستقبل میں تجارتی استعمال کے لیے تیاری کرنا ہے۔
ادارے کے مطابق آئندہ مرحلے میں اس نظام کو ملک بھر میں پھیلایا جائے گا، خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں، اور بعد ازاں شہری علاقوں میں بھی مکمل خودکار ڈیلیوری سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔














