
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ بندی مذاکرات میں تعطل کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 113.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 3.12 فیصد اضافے کے ساتھ 110.17 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
مزید برآں برینٹ کے جون کے سودوں میں 7 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
یہ اضافہ روس یوکرین جنگ 2022 کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے دوران ریکارڈ کی گئی قیمتوں سے بھی زیادہ ہے، جب برینٹ 120 ڈالر اور WTI 116 ڈالر فی بیرل تک پہنچا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق تنازع کے جلد حل ہونے کے امکانات کم ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی ممکنہ رکاوٹیں عالمی سپلائی کو متاثر کر رہی ہیں، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔















