خشک علاقوں کیلئے امید کی نئی کرن ،سائنسدانوں نے ہوا سے پینے کا پانی تیار کر لیا

0
5

سٹینفورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک جدید اور دیرپا ہائیڈروجل تیار کیا ہے جو فضا میں موجود نمی کو جذب کر کے سورج کی روشنی کی مدد سے پینے کے قابل پانی میں تبدیل کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر خشک اور پانی کی قلت والے علاقوں کیلئے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کی 2025 رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 2.1 ارب افراد اب بھی محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔

یہ ہائیڈروجل لیتھیم کلورائیڈ اور پولی ایکرائیلامائیڈ پر مشتمل اسپنج نما مادہ ہے، جو ہوا سے نمی جذب کرتا ہے اور سورج کی حرارت ملنے پر اس نمی کو دوبارہ پانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اس سے قبل کیے گئے تجربات میں یہ ٹیکنالوجی کامیاب رہی تھی، تاہم ابتدائی ماڈلز محدود سائیکل کے بعد خراب ہو جاتے تھے۔ بعد ازاں محققین نے دھاتی سطح پر اینٹی کورروژن کوٹنگ استعمال کر کے اس مسئلے کا حل نکالا، جس سے نظام کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔

تحقیق کے مطابق نئی تکنیک کے ذریعے مستقبل میں فضا سے حاصل کیے جانے والے پانی کی لاگت ایک سینٹ فی لیٹر سے بھی کم ہو سکتی ہے، جو عالمی سطح پر پانی کے بحران کے حل میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

Leave a reply